Archive for December, 2006

Good poetry read at some place

سہما سہما ڈرا ڈرا سا رہتا ہے

جانے کيوں جی بھرا سا رہتا ہے

ايک پل ديکھ لوں تو اٹھتا ہوں

جل گيا سب ذرا سا رہتا ہے

 

مرے چارہ گر کو نوید ہو صف دشمناں کو خبر کرو

جو وہ قرض رکھتے تھے جان پر وہ حساب آج چکا دیا

کرو کج جبیں پہ سر کفن مرے قاتلوں کو گماں نہ ہو

کہ غرور عشق کی بانکپن پس مرگ ہم نے بھلا دیا

جو رکے تو کوہ گراں تھے ہم جو چلے تو جاں سے گزر گئے

رہِ یار ہم نے قدم قدم تجھے یادگار بنا دیا

Leave a comment